دنیا کی پہلی داستان | ابن حنیف | Dunya Ki Phli Dastan | Ibn Hanif Sajaad Hussain( ) " ( ( ) (Rich) (Botta) ( ) 1845 (722) ) 1839 (Austin Henry Layard) 1849 (669) 626 ) " (Loftus) (George Smith) )Dr. Budge( )Hormuzd Rassam( (L. W. King) (Thompson ) (Leonard Woolley) (Henry Rawlinson) 1850 1866 (1853) 1872 () 1876 3600 3450 1500 ,,. 152
اس کے بر عکس باشاہت یا نو آبادیاتی نظام کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے نظام میں قومی مفادات کا تحفظ اور عوامی اور انسانی حقوق کی نگہداشت کے بجائے ذاتی مفادات کا تحفظ اور انسانی حقوق کا استحصال ہوتا ہے۔ لہذا ایسی سوچ کی بنیاد پر پروان چڑھنے والا نظام اپنے ہاں آئین بنانے اور اس کی روشنی میں اداروں ( مقننہ ، انتظامیہ ، عدلیہ الیکشن کمیشن اور فوج وغیرہ) کی تشکیل کے باوجود بھی وہ ثمرات حاصل نہیں کر پاتا جو کہ جمہوری نظام کے قیام کا مقصود ہے بلکہ اس کے برعکس تیسری دنیا یا پسماندہ ممالک میں وسائل کی بہتات کے با وجود نظام زندگی دن بدن بگڑتا چلا جاتا ہے اور عوام کے ساتھ ان کے اپنے ہی ملک میں قیدیوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے سیاستدان جب اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں تو ان کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ ان کی سوچوں کا محور مال بنانا اور مصلحت کی آڑ میں انتظامی، عدالتی اور عسکری عہدیداروں سے تعلقات استوار کرنا ہوتا ہے تا کہ یہ اپنا دھند ا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔
تاریخی ، سوانحی ، علمی و ادبی ، جغرافیائی ، سائنسی اور فنی و ثقافتی 17000 سے زائد اندراجات ، مستند مآخزوں پر مبنی 7000 سے زائد تصاویر پر مشتم
A People's History of India 3: The Vedic Age
Emphasizing The Imperative Of Domestic And Regional Prosperity
ارتقاہی تہذیب کو زندہ رکھتا ہے۔ چائنہ کے کلچر کا بیانیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ کھانا یا خوراک انسانی نسل کی تہذیب ہے اور پکانا ایک آرٹ۔
AIYE ZINDAGI BADLEIN By Professor Arshad Javed
ایہہ کہانیاں انسانی حسد، رقابت ، بے حسی تے تعصب نال جڑی پنڈ دی زندگی دے اوہناں پہلو واں آتے اشکارا پاندیاں نیں جیہڑے عام طور تے شہراں وچ وسن والیاں دیاں نظراں توں اوہلے رہندے نیں۔ میں سمجھتاں کہ ایہہ کم ، تے اوہ وی ایس کامیابی نال، اکمل شہزاد گھمن ورگا قلم کار ہی کر سکدا سی۔
ISBN 9786277656133
• جذبے سے بھرپور زندگی کے لیے اپنے آپ سے دوبارہ جڑنے کا طریقہ۔۔
سچی بات یہ ہے کہ یہ عظیم المرتبت لوگ بہت ہی زندہ دل، متحرک و محبوب اور یاری کرنے کے قابل لوگ تھے۔ خصوصاً کارل مارکس کے بارے میں یہ بات درست ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں ہاسٹل کے میرے کمرے میں لگی ہوئی اس کی تصویر کو ہمیشہ کسی بلوچ ہیرو کی تصویر سمجھا جاتا تھا۔ گول داڑھی، چمکتی آنکھوں، خوبصورت ناک نقشہ اور انتہائی جاذب نظر شخصیت میں وہ لگتا بھی بلوچ ہے۔ اس کی زندگی بھی بڑی بھرپور تھی۔ اس نے دنیا کے سخت ترین اور خشک ترین موضوعات پر لکھا، مگر ان موضوعات کو بھی اپنی رنگین طرزِ تحریر اور حسِ مزاح سے بہت خوبصورت بنا ڈالا۔
‘ ہے۔ اس میں ایک مقدمے میں انگریز مرد اور عورت کو سزائے موت ہوئی۔ دونوں نے مل کر عورت کے خاوند کو قتل کیا تھا۔ سزا دینے والے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج ہندوستانی تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ میں اس سزا پر عملدرآمد رُک جائے گا۔ سپریم کورٹ کے انگریز ججوں نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کی توثیق کی۔
’ملکہ نہاتی کیسے تھی‘۔