لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi Poetry

Regular price $ 200.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi PoetryISBN 9786277656126 Pages 157

قومیت کسی بھی خطے کی اساسی شناخت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کے تحت رواج پانے والی تاریخی روایات، اقدار، رسوم، اجتماعی احساس، مشترکہ مفاد اور زبان و اطوار باہم مشترک ہوتی ہیں۔ یہی وہ قومیت کا بنیادی وظیفہ ہے جو باہمی انسلاکات اور اشتراکات پر یقین رکھتا ہے۔

اعجار فکرال

سلطنتِ عثمانیہ، دنیا کے تین براعظموں پر عثمانی ترکوں نے اپنا پرچم سربلند کرکے اسلام کی بے مثال تاریخ رقم کی۔ اسلامی تاریخ کا روشن باب، خلافت عثمانیہ کی مکمل روداد۔

وہاں آئے ہوئے دوسرے لوگوں محسوسات کیا ہیں

امیر تیمور دنیا کا مشہور بادشاہ اور فاتح گزرا ہے۔ اس نے قریباً10 ملک فتح کئے اوردو لاکھ لوگوں کو قتل کر کے ان کے سروں کے مینار بنا دئیے۔ اس نے زندگی میں ہزاروں شہر بھی جلا کر راکھ کر دئیے۔ یہ ازبکستان کا رہنے والا تھا اور اس کے گاؤں کا نام شہرے سبز تھا۔ یہ گاؤں سمرقند کے شہرسے 80کلومیٹر کے فاصلے پر تھاتھا‘ امیر تیمور کی پوری زندگی لڑتے گزر گئی‘ یہ لمبی لمبی فتوحات کے بعد واپس اپنے وطن آتا تھا۔ ایک آدھ سال وہاں رہتا تھا اور اس کے بعد کسی نئی مہم پر روانہ ہو جاتا تھا۔ اس کی فتوحات کے 25سال 1395ء میں پورے ہوئے‘ امیر تیمور نے اس موقع کو یادگار بنانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے ایک شاندار جشن کا اہتمام کیا‘ اس نے شہر تمام لوگوں کو کھانے کی کو کھانے کی دعوت دی‘ شہر کے سارے لوگ جمع ہو گئے‘ اس مجمعے میں ایک لوہار بھی شامل تھا‘ یہ لوہار گھوڑوں کے پیروں میں نعل لگاتا تھا۔ امیر تیمور اپنی رعایا کے ساتھ مل کر جشن منا رہا تھا کہ یہ لوہاراس تک پہنچا‘ اس نے جھک کر بادشاہ کو سلام کیا اور اس کے بعد عرض کیا ”جناب اگر آپ مجھے جان کی امان دے دیں تو میں کچھ عرض کروں“ بادشاہ نے اسے جان کی امان دے دی‘ لوہار نے عرض کیا ”جناب جب آپ سبز گاؤں کے ایک چھوٹے سے سپاہی تھے‘ میں اس وقت گھوڑوں کے سموں میں نعلیں لگاتا تھا‘ پھر آپ امیر قازعان کی فوج میں شامل ہو گئے‘ میں اس وقت بھی لوہار تھا اور گھوڑوں کے سموں میں نعلیں لگاتا تھا‘ آپ فوج کے سپہ سالار بن گئے لیکن میں لوہار کا لوہار رہا‘ آپ ہرات کے بادشاہ بن گئے لیکن میں لوہار کا لوہار رہا۔ آپ نے طوس فتح کر لیا لیکن میں لوہار کا لوہار رہا‘ اس کے بعد آپ دنیا فتح کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے‘ آپ نے بخارا بھی فتح کر لیا‘ آپ نے سیستان بھی فتح کر لیا‘ آپ نے آذربائیجان‘ فارس‘ اصفہان اور دہلی تک فتح کر لیا اور آج آپ اپنی فتوحات کے پچیس سال پورے ہونے پر جشن منا رہے ہیں لیکن میں آج بھی لوہار کا لوہار ہوں۔ ان پچیس برسوں میں تیمور امیر تیمور ہو گیا لیکن میں لوہار کا لوہار رہا۔ امیر تیمور خاموشی سے سنتا رہا‘ لوہار نے عرض کیا ”جناب میں اس دن اس سلطنت کو ترقی یافتہ اور آپ کو دنیا کا سب سے بڑا فاتح سمجھوں گا جس دن میں لوہار نہیں رہوں گا‘ جس دن مجھے آپ کے برابر بیٹھنے کا موقع ملے گا‘ جس دن آپ جیسے لوگ میری بھی عزت کریں گے‘ میں اس دن خود کو اس فتح کے جشن کے قابل سمجھوں گا۔ دنیا کا ہر انسان اس دنیا کو‘ اپنے ماحول کو‘ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو ہمیشہ اپنے مسئلے کی نظر سے دیکھتا ہے‘ بیمار شخص کو سونے چاندی کی دیواریں بیمار دکھائی دیتی ہیں اور پیاسے کو چاند کی چاندنی میں برف نظر آتی ہے اور ہم لوگ اس وقت تک خوشحالی‘ امن‘ سکون‘ ترقی‘ بنیادی حقوق اور آزادی کو تسلیم نہیں کرتے جب تک یہ ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم بھی جانتے ہیں اور جس سے آپ بھی واقف ہیں لیکن افسوس ہماری پارلیمنٹ‘ ہمارے پارلیمنٹرینز اور ہماری حکومت اس حقیقت سے آگاہ نہیں۔ اس ملک کے عام شہری کے آٹھ بڑے مسائل ہیں‘ ان میں مہنگائی‘ بے روزگاری‘ لوڈ شیڈنگ‘ ناانصافی‘ تعلیم کا فقدان‘ صحت کی سہولیات کا ناپید ہونا‘ حق تلفی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ عام لوگ ان مسئلوں کے حل کیلئے ہرالیکشن کا انتظار کرتے ہیں‘ یہ اپنے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بھجواتے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس پر نظریں گاڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اب ان کے نمائندے ان کیلئے کھانے پینے کی اشیاء سستی کر دیں گے‘ ان کو روزگار فراہم کریں گے‘ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلائیں گے۔انصاف‘ تعلیم‘ صحت اور بنیادی سہولیات کا بندوبست کریں گے لیکن افسوس ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی۔ہماری ہر آنے والی حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن اصل حکمرانی وہی ہوتی ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں"

کتاب: داستان فلسفہ(The Story of Philosophy)

پانی کا عالمی بحران اور پاک بھارت تنازعات

صفحات | 367

برطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔

The book also offers an in- depth analysis of Iran's nuclear deal brokered among Iran and Western powers in 2015 and its fate

تاہم اس کی یہی فکری حقیقت پسندی بعض ناقدین کی نظر میں سرد مصلحت اندیشی بن جاتی ہے۔ وہ اخلاقیات کو مفاد کے ترازو میں تولتا ہے، اور سچائی کو کبھی کبھی نفع و نقصان کے کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ بیکن کا اخلاقی تصور بعض اوقات وہ دشت ہے جہاں صداقت کا پانی کم اور مصلحت کی ریت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مضامین میں وہ سنجیدہ تجزیہ ملتا ہے جو دل کی گہرائیوں کو جھنجھوڑنے کے بجائے ذہن کی پرتیں کھولتا ہے، اور اسی سبب بعض نقاد اسے ایک خشک دانشور اور غیر جذباتی فکری معمار قرار دیتے ہیں۔

میں دل کی گہرائیوں سے ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جہان آہنگ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi Poetry orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi Poetry ships.

Need Help?
Questions about لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi Poetry, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for لاہور جو شہر تھا | انیس ناگی | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi Poetry in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>