Huqooq e Walidayn shahadat imam husyn
دوسروں کے لئے برکت اور مغفرت کی دُعا
🔹باب اول : سورہ فاتحہ کے اسماء اور ان کی معنوی خصوصیات
and question the authenticity of the aforementioned statement of the Prophet
جملہ عبادات میں نماز ہی تنہا ایسا عمل ہے جسے آقائے دو جہاں ﷺ نے اہل ایمان کی معراج قرار دیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذات ستودہ صفات کو نماز سے بے پناہ شغف اور رغبت تھی۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اَقدس اُمتِ مسلمہ کے ایمان کا مرکز و محور اور حقیقی اَساس ہے۔ لہٰذا اہلِ اسلام محافلِ نعت منعقد کرکے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے خود قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کا ذکرِ جمیل پیرایۂ نعت میں کیا ہے۔ خالقِ کائنات اپنے حبیب ﷺ سے جب بھی مخاطب ہوا تو نام لینے کی بجائے کبھی يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کہا اور کبھی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ اور کبھی يسين کے لقب سے پکارا۔ اِسی طرح کلامِ مجید میں کہیں وَالضُّحَى کہہ کر آپ ﷺ کے رُخِ اَنور کی قسم کھائی اور کہیں وَاللَّيْلِ کہہ کر آپ ﷺ کی شبِ تاریک کی مانند سیاہ زلفوں کی قسم کھائی۔ ہمہ قرآن دَر شانِ محمد ﷺ کے مصداق پورا قرآن حکیم حضور ﷺ کی مدح اور نعت ہی تو ہے۔ اِس کے پیرایۂ اِظہار میں نعت ہی کا رنگ صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کتابچے کو پڑھ کر قاری نشۂ عشق الٰہی اور نشۂ عشق مصطفیٰ ﷺ کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور جو دنیاوی نشوں کی لذتوں میں مگن ہے تو اس کو اگر حقیقی نشے کی لذت چکھا دی جائے تو وہ دنیاوی نشوں کے قریب بھی نہ جائے گا۔
بقول مفکرِ اِسلام علامہ اِقبال قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جو مجرّد تصوّر کی بجائے ٹھوس عمل پر زور دیتی ہے۔ اِس عمل کے سُوتے بلا شبہ رضا و مشیتِ الٰہی کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔ قرآن سے اَخذ کردہ علم۔ ۔ ۔ علم بالوحی ہے، جو اِس عالمِِ دنیا میں عالمِِ آخرت تک رسائی حاصل کرنے اور اُخروی زندگی میں فوز و فلاح کی ضمانت حاصل کرنے کے لئے ایک زِینے کا کام دیتا ہے۔ قرآن سرتا پا برھان اور فرقان اور حق و باطل کے مابین حدِ فاصل ہے، جو اُمتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لئے مکمل ضابطۂ حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ اس میں وضاحت و صراحت کے ساتھ کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ہر شعبے اور ہر پہلو کے حدود متعین کئے گئے ہیں۔ قرآنِ حکیم کے وضع کردہ ضابطے بڑے واضح اور ہر قسم کے اِبہام اور شک و ریب سے پاک ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ ستودہ صفات شارع (Law Giver) اور شارح (Interpreter) دونوں حیثیتوں کی حامل ہے۔ اسلام وہ نظامِ حیات فراہم کرتا ہے جس میں عقائد و نظریات اور اعمال کی اساس کو پرکھنے کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کسوٹی (Touchstone) کا درجہ رکھتی ہے اور وہی راستہ صراطِ مستقیم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کی وساطت سے کامیاب اُخروی زندگی سے ہمکنار کرتا ہے۔ بقول حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ:
باب 4 : اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق
The book also addresses topics like archival data
the book deals with prominent issues such as business score-carding
باب 3 : انسانی حقوق کے اولین چارٹر سے اقوام متحدہ تک
ناموسِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ کا احساس لفظ لفظ میںسروِ چراغاں کا منظر پیش کررہا ہے