سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar

Regular price $ 125.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar:

ڈاکٹر درویش کا خیال ہے کہ ہر طرح کی شناخت، عصبیت کی نمائندگی کرتی ہے ۔ ہر نظریاتی شناخت ظلم، جبر، استحصال اور بربریت کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس شناخت کا ہونا اور اس کا مطالبہ کرنا ہی ظلم و جبر کا جواز تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ اسی خیال کے تحت ڈاکٹر درویش شناخت کے مقولے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں اور شناخت کو عہد حاضر کے تکثیری معاشرے کے لیے خطرناک خیال کرتے ہیں۔ قومیت، علاقے ، زبان، مذہب اور فرقوں وغیرہ کی بنیاد پر قائم ہوئی شناخت کا دائرہ جب ادبی و شعری متون تک پھیلا یا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ادبی وشعری متون میں معنی کی تعیین کا مرک بھی وہی شاخت“ کا مقولہ ہے معنی کی تعین کا تقاضا شناخت کے مطالبے کے متماثل ہے۔ جبکہ سماجی اور سیاسی سطح پر پہلے کے ذریعے دوسرے کی تخفیف کا قضیہ بھی شناخت سے جڑا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر درویش نے ادبی و شعری متون میں معنی کی تعیین ، اور سماجی و سیاسی سطح پر شناخت کے مقولے کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہ ہمارے معاشروں کی تفہیم کا ایک مختلف زاویہ ہے جس میں ایک نئے مکالمے کا آغاز کرنے کے تمام عوامل موجود ہیں۔ ہمارے معاشرے کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ ان پر سنجیدگی سے غور وفکر کیا جائے۔

گذشتہ روز قومی محاذِ آذادی کے سینیئر رہنما مصدق حسین اسد کی کتاب "مصلحتوں کے مارے لوگ" کی تقریبِ رونمائی تھی۔ جس کی صدارت بائیں بازو کے نامور دانشور اور شاعر اسلم گورداسپوری نے کی۔ مہمانِ خصوصی ممتاز قانون دان حامد خاں ایڈووکیٹ اور راقم تھے۔ کاسمپولیٹین کلب کا ہال بائیں بازو کے دوستوں سے بھرا ہوا تھا۔ کتاب میں صاحبِ کتاب نے اپنی جد و جہد اور ملکی صورتحال پر کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا طرزِ اسلوب سادہ مگر متاثر کن ہے۔ وہ جو بات کہنا چاہتے تھے انہوں نے بڑی سہولت سے بیان کر دی۔ ایک عام گھرانے کا فرد سیاست کے میدان میں کن مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور اس کے لیے کیا مسائل ہے وہ مصدق حسین اسد سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے انہوں نے سیاسی رہنماؤں خاص کر بائیں بازو کی لیڈرشپ اور ورکروں کو موقعہ پرستی اور مصلحت کا شکار ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ ملکی سیاسی نظام اور لوگوں کی ابتر سماجی زندگی پر نوحہ کناں ہیں۔ صحافت سے لے کر عدلیہ تک کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر انہوں پر اپنی رائے نہ دی ہو ۔ ججوں کے سمجھوتے صحافیوں کی بد دیانتی وہ کھل کر سامنے لائے ہیں۔ عام شہریوں کو تعلیم ، انصاف ، خوراک اور علاج معالجے کی سہولتوں میں جن مصائب کا سامنا ہے وہ اسے بڑی درد مندی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جو غیر ملکی قرضہ ہم لیتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے؟ یہ ساری باتیں ایک محب وطن پاکستانی ہی کر سکتا ہے۔ جو غریبوں کا دکھ سمجھتا ہے۔ انہیں گلہ ہے کہ ان کے نظریاتی ساتھی مصلحتوں کا شکار ہوئے اور انہیں این جی اوز نگل گئیں۔ ان سے کچھ باتوں پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکالمے کے آدمی ہیں۔ مثلا" میں سمجھتا ہوں جب مخصوص نظریات رکھنے والے لوگوں پر زندگی تنگ کر دی جائے ان پر ملازمتوں کے دروازے بند ہوں تو وہ کہاں جائیں ؟ ۔ زندہ رہنے کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا نا۔ اسی لیے بہت سے نظریاتی لوگ روزی روٹی کمانے کے لیے ملک سے باہر جا مقیم ہوئے۔ کچھ نے این جی اوز بنا لیں۔ ہاں مجھے اعتراض ہے ایسے لوگوں پر جنہوں نے اپنے نظریات تبدیل کر لیے یا غیر ملکی فنڈنگ پر یورپ اور امریکہ کی سرمایادارانہ پالیسیوں کے حامی بن گئے۔ یہ تقریب بہت اہمیت کی حامل تھی۔

Book Details ISBN 978-969-652-010-8 No

کتاب میں شامل تمام مضامین براہ راست یا بالواسطہ طور پر تعلیم کے موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کو موضوعات اور نوعیت کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی کارکردگی ، اس میں آنے والے پھیلاؤ اور معیار تعلیم کے حوالے سے لکھے گئے مضامین رکھے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں نظری اور علمی نوعیت کی تحریریں ہیں جبکہ تیسرے حصے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور میں تعلیم سے متعلق بیان کردہ عزائم اور ارادوں کے تجزیے پر مشتمل تحریریں رکھی گئی ہیں۔چوتھا حصہ دنیائے علم وفکر کی چند شخصیات کے ذکر پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کچھ شخصیات اب اس دنیا میں نہیں رہیں جبکہ دیگر اس وقت بھی علم وہنر کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ پانچویں حصے میں کراچی سے متعلق تحریریں ہیں ۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ ان مضامین کو لکھتے وقت حتی الامکان کوشش کی گئی تھی کہ بیان کردہ حقائق اور درج کردہ اعداد وشمار کی صحت کی توثیق کرلی جائے لیکن اس کے باوجوداگر پڑھنے والے ان میں کوئی غلطی دیکھیں تو میری اُن سے گزارش ہوگی کہ اس کی نشاندہی کر دیں تا کہ بعد میں اسکی اصلاح کی جاسکے۔

مرد نے ناک پونچھی اور خاموش ہو گیا۔ سبھی سگریٹ پی رہے تھے لیکن کوئی بول نہ رہا تھا۔ہوا بھاری ہو چکی تھی۔ اجسام کا پسینہ ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔

If I am Assassinated | Zulfikar Ali Bhutto

سفر زیست

of Pages 400 Format Hardcover Publishing Date 2015 Language Urdu

A book entitled "De-idealizing cultural orthodoxy" written by Syed Waqar Ali Shah lecturer at English Development Centre (ELDC)

فرخ سہیل گوئندی کا شمار پاکستان کے اُن تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے جو مختلف قومی اور عالمی سیاسیات اور سماجی وسیاسی تاریخ پر نہ صرف بے لاگ اور غیرجانب دار تجزیہ کرنے میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اور اُن کے تجزیے و تحریریں، منطق، دلیل اور تحقیق پر مبنی ہونے کے ناتے جانے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اُن کی تحریروں میں سائنسی جدلیات ہوتی ہیں نہ کہ کسی سیاسی دھڑے یا موقف کی حمایت۔

ابھی بیسویں صدی ختم نہیں ہوئی کہ ادیبوں اور دانشوروں نے ہر فکر شے اور فن کے خاتمے یا موت کا اعلان کر دیا ہے ۔ خدا، انسان ، مذہب ، تاریخ ، نظریہ ، مارکسیت ، فن، ادب اور ادیب نابود یا پوسٹ “ ہو گئے ہیں (احساس مرگ اور لکھنا مستقبل کا)۔ اس عہد مرگ میں دنیا کی تاریخ ایک ایسے موڑ پر آگئی ہے جہاں جدیدیت اور مارکسیت اپنی کامرانیوں کے تمام تر دعووں کے باوجود شکست دریخت کا شکار ہو چکی ہیں۔ لہذا ان کے بعد آنے والے دور کو ما بعد جدیدیت کے عہد سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ کیا یہ احساس مرگ ایک بھولا ہوا بھیانک خواب بن کر رہ جائے گا یا اپنے گرداب میں سب کچھ بہا کر لے جائے گا؟

ہُوکاں | Hookaan

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar ships.

Need Help?
Questions about سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for سر گنگا رام | Sir Gunga Ram Yaqoob Yawar in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>